عاشورہ محرم الحرام منایا جا رہا ہے۔ اس روز نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ نے اسلام کے ابدی اصولوں کی خاطر اور ان پر قائم رہتے ہوئے نہ صرف اپنی جان کی قربانی پیش کی بلکہ خانوادہ رسولؐ کے کئی ارکان بھی حضرت امام حسینؓ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ حضرت معاویہؓ کی وفات کے بعد یزید نے خلافت کا منصب سنبھالا اور بیعت لینے کا عمل شروع کیا تو حضرت حسینؓ نے بیعت یزید سے انکار کر دیا۔ حضرت حسینؓ کا مؤقف تھا کہ وہ یزید کی بیعت نہیں کریں گے کیونکہ اس کے اندر بہت سی ایسی بشری کمزوریاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں جو اس کے خلیفہ ہونے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں…

حضرت امام حسینؓ کو اہل کوفہ نے خطوط لکھے کہ آپ یہاں آ جائیں ہم بھی یزید کو خلیفہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنے چچا زاد حضرت مسلم بن عقیلؓکو کوفہ بھیجا تاکہ وہ وہاں پہنچ کر شہر کے عمائدین سے مل کر اس بارے میں حضرت امام حسینؓ کو آگاہ کر سکیں۔ یزید نے ان کی آمد اور اہل کوفہ کی طرف سے حضرت مسلم بن عقیلؓ کی حمایت کی اطلاع ملنے پر گورنر کوفہ کو تبدیل کر کے ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر لگا دیا۔ جس نے شہر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی اور حضرت مسلم بن عقیلؓ اور ان کے بچوں کو شہید کر دیا… حضرت امام حسینؓ کو راستے میں ان کی شہادت کی اطلاع مل گئی۔ ان کو یہ علم بھی ہو گیا کہ یزید نے ابن زیاد کو گورنر بنا دیا ہے تاہم حضرت حسینؓ نے کوفہ کی طرف سفر جاری رکھا اور کربلا کے مقام پر پڑائو ڈالا۔ ابن زیاد نے کوفہ میں ظلم و تشدد کا سہارا لے کر اہل شہر کو حضرت حسینؓ کی حمایت سے روک دیا اور ایک بڑی فوج لے کر قافلہ حسینؓ کے سامنے صف آرا ہو گیا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ میں سیاہ حرفوں جبکہ امام حسینؓ کی قربانی سنہری حروف سے لکھی جاتی رہے گی۔ حضرت امام حسینؓ 10 محرم الحرام کو نماز عصر کی ادائیگی کے دوران شہید کر دیئے گئے۔ خیموں کو آگ لگا دی گئی تو خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر شام لے جایا گیا۔ حضرت امام حسینؓ نے یہ قربانی دے کر اسلام کو پھر سے زندہ کر دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے لئے راہ متعین کر دی کہ خلیفہ کا منصب موروثی نہیں بلکہ خلیفہ وقت کے لئے ایمان پر قائم ہونا اور اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ امام عالی مقام نے خاندانی موروثی حاکمیت اور اقتدار و اختیار کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کو شرف انسانیت اور احترام آدمیت کے منافی قرار دیا اور میدان میں اتر کر اس کے خلاف وہ صدا بلند کی جو آج بھی مسلمانوں کے لئے منزل کا تعین کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؓ کے اس اقدام نے قیامت تک مسلمانوں پر واضح کر دیا کہ ان کے حکمران میں کیا کیا ہونا چاہئے اور جو شخص یہ خوبیاں نہ رکھتا ہو اس کی حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے۔ شہدائے کربلا کے سامنے عظیم مقصد یہ تھا جس اسلامی شورائی نظام کے تحت پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد رسولؐ اللہ کے پردہ فرما ہونے کے بعد خلافت قائم کی گئی تھی، وہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تھی، اس کا احیا کیا جائے۔

انہوں نے جب دیکھا کہ خلافت کے بجائے ملوکیت کا نظام قائم کیا جا رہا ہے اور وقت کا حاکم قوم کا خادم بننے اور امیر المومنین بننے کے بجائے قیصری و کسرائی طرز بادشاہت کو شعار بنا کربیت المال کو ذاتی تصرف میں لے چکا اور اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہو رہا ہے اور خود کو ہر جوابدہی اور احتساب سے بالا سمجھ رہا ہے تو آپؓ نے خاندانی موروثی حاکمیت کے پرچم بردار یزید کی بیعت سے کھلے بندوں انکار کیا۔حاکم وقت کے لئے آپؓ کا یہ اقدام ناقابل ِ برداشت تھا لیکن اسے اس امر کا بخوبی ادراک و احساس تھا کہ نواسہ رسول سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اپنی آنکھوں کے سامنے اسلام کے اصولِ امارت اور خلافت کو پامال ہوتے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی انہیں ملوکیت کی بیعت کرنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی انہیں شاہانہ کر وفر اور ملوکانہ جاہ و جلال مرعوب کرسکتا ہے تو اس نے انہیںریاستی قوت اور حکومتی طاقت سے دبانے کے لیے کارروائیاں شروع کردیں۔

اس کی واحد خواہش یہ تھی کہ جس طرح بھی بن پڑے امام عالی مقامؓ سے بیعت لے کر اپنی ملوکیت کو سند جواز دلا سکے۔ ترغیب و ترہیب کا ہر حربہ آزمایا گیا لیکن یزید جگر گوشۂ بتول سے بیعت لینے میں ناکام رہا۔ حضرت حسینؓ نے ہر یزیدی حربے اور پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا اور اپنی ذات اور جملہ اہل خانہ کی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے عملاً ثابت کیا کہ وہ بیعت کے لیے ہاتھ بڑھانے پر سر کٹانے کو ترجیح دیں گے۔ سر داد نا داد دست در دست یزید …حضرت حسینؓ تمام جبرو استبداد کے سامنے شیرانہ انداز میں سینہ سپر رہے اور حق و صداقت کی خاطر ایسی بیش بہا قربانیاں پیش کیں کہ تاریخ عالم میں اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ آج 10 محرم الحرام کے موقع پر اسلامیان عالم کو مقتل کربلا سے یہی پیغام مل رہا ہے کہ بے حسی اور بے بسی کی زنجیروں کو توڑ کر وقت کے یزیدوں کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں گے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ہم ہر سال یوم عاشور مناتے ہیں، شہادت عظمیٰ کا ذکر والہانہ انداز میں کرتے ہیں۔ مسائل و مصائب اہل بیت کا بیان بھی دلوں میںگداز پیدا کرتا ہے

لیکن امام عالی مقامؓ کی قربانی نے جو فقید المثال درس دیا تھا، اسلامیان عالم کی اکثریت اسے فراموش کر چکی ہے۔ آج عالم اسلام کے پاس تیل کے وسیع ذخائر، افرادی قوت اور جکارتہ سے رباط تک عظیم تذویراتی جغرافیائی محل وقوع اور دیگر ان گنت انعام موجود ہیں لیکن بالادست مقتدر طبقات نے عالم اسلام کے اکثر ممالک میں عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ مقتدر اور بالادست طبقات امام عالی مقامؓ کی شہادت عظمیٰ کو نصب العین بنانے کے بجائے پیش پا افتادہ مفادات کے دام کے اسیر ہیں۔ قول و فعل کا تضاد اور دو عملی ان کے خمیر و ضمیر میں رچ بس چکی ہے۔ عراق، لبنان، شام، یمن، تیونس اور لیبیا لہو لہوہیں۔ فلسطین، کشمیر اور روہنگیا کے مظلومین کے لیے ان کے گلی کوچے کربلا بن چکے ہیں۔ یہ عصر رواں کی کربلائیں عالم اسلام کے بالادست اور مقتدر طبقات کو دکھائی نہیں دیتیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہماری حیات اجتماعی امام عالی مقامؓ سے ہماری عقیدت کے لسانی اظہار کی تکذیب کرتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ عالم اسلام کے باہم متحارب اور متصادم ممالک ایک دوسرے پر الزامات کی یورش کرنے کے بجائے متحد ہو جائیں۔ اسی میں ان کا اور عالم اسلام کی آنے والی نسلوں کا بھلا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فروغ اسلام، فروغ صداقت اور فروغ حقانیت کے لیے خانوادہ نبوتؐ کی مقدس و محتشم ہستیوں نے دشت کربلا میں اپنی شہ رگ کے خون سے شجر اسلام کی آبیاری کی۔ یہ عظیم قربانیاں پیروان اسلام کو وحدت و اتحاد کا درس دیتی ہیں۔ یہ قربانیاں ہمیں ملوکانہ طرز حکمرانی،خاندانی موروثی اقتدار اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر عوامی و جمہوری قدروں کی بیخ کنی کی راہیں ہموار کرنے والے طبقات کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کا بھی پیغام دیتی ہیں۔

Leave a Reply