کراچی:وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے سندھ میں بارشوںاور سیلاب سے72لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ صوبے میں ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی، بچوں اور خواتین کو نیوٹریشن سپلیمنٹ کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روز ڈبلیو ایچ او کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔

وفد کی سربراہی اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام (ڈبلیو ایچ ای) ڈاکٹر مائیکل ریان کررہے تھے۔ ملاقات میں سیلاب کی مجموعی صورتحال، فوری ضروریات کی فراہمی اور صحت عامہ کے حوالے سے پیش آنے والے خطرات پر تبادلہ خیال کیا اور ساتھ ساتھ پانی سے جنم لینے والی بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے بھی مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ آف مشن ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر مائیک ریان ،ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر رچرڈ برینڈن، سینئر ایمرجنسی آفیسر رابرٹ ہولڈن، انسیڈنٹ منیجر ڈاکٹر مائیکل لوکویا، کمیونیکیشن آفیسر منیرا المہدی، ڈبلیو ایچ او کی ہیڈ آف سب آفس سندھ ڈاکٹر سارہ سلمان، ٹیم لیڈر ،پولیو پروگرام ڈاکٹر آصف علی زرداری نے شرکت کی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی معاونت وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، سیکرٹری صحت ذوالفقار شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے سیکرٹری رحیم شیخ نے کی۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل نے

وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ڈبلیو ایچ او مشن سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لے چکی ہے اور صوبے کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع اور انہیں پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ بھی لے چکی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ غیرمعمولی بارشوں اور پہاڑی ریلوں سے صوبے کے کل آبادی والے علاقوں کا 18.8 فیصد یعنی 12,541.6 مربع کلومیٹر علاقہ زیر آب آیا جس کے نتیجے میں 7.2 ملین افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے بھر میں قائم 2782 ریلیف کیمپوں میں تقریباً 400,000 افراد رہائش پذیر ہیں۔ ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر مہی پالا نے ریسکیو اور ریلیف سروسز کے حوالے سے سندھ حکومت کی کوششوں کو سراہا اور اسی طرح صحت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ ، پارٹنرزاور مقامی این جی اوز کے درمیان مزید مربوط کوششوں پر زور دیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ 410 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن میں موبائل (کیمپس) بھی شامل ہیں،

جن میں 600 ڈاکٹرز، 1125 پیرا میڈیکس اور 350 رضاکار شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ اور ڈبلیو ایچ او مشن نیصحت اور غذائیت کے سنگین بحران پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں سیلاب زدگان کی حفظان صحت ، رہائش، خوراک، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ہر ضرورت مند تک اس کی رسائی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صرف ستمبر میں اسہال سے متاثرہ 96658 پانچ سال سے کم عمر بچوں کا علاج کیا گیا ہے۔ اسی طرح پیچش کے 16701 اور ہیضے سے 8 متاثرہ بچوں کاعلاج کیا گیا۔ملیریا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی محکمہ صحت نے 28 ستمبر کو 20623 مریضوں کی اسکریننگ کی، ان میں سے 2942 ملیریا کے مثبت کیسز سامنے آئے، جن میں حیدرآباد ڈویژن کے 1960، لاڑکانہ 1375، میرپورخاص 989، سکھر 354، بینظیر آباد 148 اور116 کراچی کے شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 13,869 مریضوں کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے 6603 ڈینگی کے مثبت کیسز پائے گئے۔ اس پر وزیر صحت ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ رواں سال میں ڈینگی کے 9172 کیسز سامنے آئے ہیں۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا نے زچگی کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 9,829 حاملہ خواتین کیمپوں میں رہ رہی ہیں، ان میں سے 9,010 کو غذائی سپلیمنٹس دی گئی ہیں، 7897 خواتین کو ٹیٹنس ٹاکسائیڈز (ٹی ٹی) اور ٹیٹنس ڈفتھیریا (ٹی ڈی) کی 3756 ڈلیوری ہوئی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ریان نے مزید کہا کہ اموات میں اضافے کا خطرہ پانی اور حشرات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلنے کی وجہ سیہے۔ غذائی قلت اور حاملہ خواتین کے بارے میں بات کرتے ہوئے مندوبین نے فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ڈبلیو ایچ او نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، خطرناک بیماریوں سے بچائو ، ادویات اور اشیا کی فراہمی، غذائی قلت سے نمٹنے اور صحت کی بہتر سہولیات کے حوالے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ ڈبلیو ایچ او نے سیلاب کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے سندھ میں چار ایمرجنسی آپریشن سینٹرز قائم کیے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او 50 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے قیام، بنیادی صحت کی فراہمی اور صحت سے وابستہ عمارتوں کی پائیداری اور ان کی تزئین و آرائش کے حوالے سے سندھ حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے دادو اور قمبر شہداد کوٹ میں صحت کی خدمات کے حوالے سے ایکوا ٹیبلٹس کی فراہمی ، پینے کے صاف پانی کے پلانٹس ، 12 کشتیاں اور 27 گاڑیاں فراہم کی ہیں۔

Leave a Reply