ہانیہ ارمیا

پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاصد جب بھی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں پڑھے جائیں، تو ایک خوابی صورت دماغ میں بننے لگتی ہے کیا خوبصورت سوچ تھی جس کی ہلکی سی جھلک بھی آج کے موجودہ پاکستان میں نظر نہیں آتی۔

پاکستان کے تعلیمی معیار کا تو ذکر ہی کیا؟ اس شعبے میں فرقے بازی کی مثال بھی دنیا کے کسی اور حصے میں نہیں ملتی۔ پاکستان کو بنانے کا ایک اہم مقصد اردو زبان کا تحفظ تھا وہ اردو زبان جسے متحدہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو شعراء اور ادباء نے مل کر پروان چڑھایا، جس زبان کا پرانا نام ہندوی اور دکنی تھا اور جب اس زبان کی اصل شکل واضح ہوئی تو اسے “اردو” کا نام دیا گیا۔

وہ اردو زبان جسے ہندوؤں نے جب بدل کر ہندی زبان(ہندوؤں کی الگ زبان، دیوناگری رسم الخط اردو کے مقابلے میں تشکیل دیا گیا تاکہ اردو کے وجود کو ختم کیا جا سکے) کو متحدہ ہندوستان کی سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا تو مسلمان بھڑک اٹھے اور اس سوچ میں غرق ہو گئے کہ اب اس علاقے میں ہماری نسلوں کا مستقبل محفوظ نہیں۔ ہمیں ایک الگ ملک کی ضرورت ہے جہاں ہم اپنی ثقافت کی حفاظت کر سکیں مگر سب لفاظی ثابت ہوئی۔ 1947، 14 اگست کو پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، تب اردو زبان کے محافظ اردو زبان کو سرکاری درجہ دینے سے مکر گئے اور ملک کے پہلے دستور 1956 میں ملک میں سرکاری زبان پہ بڑھنے والے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے 25 سال تک انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔

اب ایسی مضحکہ خیز صورتحال پہ ہندو اور برطانوی ہم پہ اگر قہقہے نہ لگاتے تو اور کرتے۔ 1956 کے بعد ملک کے تیسرے دستور 1973 کی دفعات میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ مل گیا، مگر کیا ملک کی موجودہ صورت اس دفعہ کی عکاسی کرتی ہے۔نوعمروں کی تعلیم دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے غریب طبقے کے لیے اردو میڈیم یعنی اردو زبان کی کتاب والا سکول، جس کے استاد کم تعلیم یافتہ اور بےروزگاری کے مارے ہوتے ہیں ان سکولوں میں نظم وضبط کی کوئی پابندی نہیں، سکول بینادی تعلیمی سہولتوں سے عاری ہوتا ہے اس ادارے میں تمام نصابی کتب اردو میں پڑھائی جاتی ہیں سوائے ایک کتاب انگریزی لازمی کے۔ مگر اس سکول کے فارغ التحصیل بچوں کے لیے مستقبل کی راہیں دشوار ہو جاتی ہیں انگریزی موجودہ وقت کی ایک ایسی مجبوری ہے جو دھیرے دھیرے ہماری سرکاری زبان کی حیثیت کو ختم کر چکی ہے۔

ملک کی اکثریت انگریزی تعلیم کو فوقیت دیتی ہے انگریزی زبان کا نصاب بچے کے بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے انگریزی سکولوں میں اردو زبان کی وقعت اس بات سے لگائی جا سکتی ہے کہ ان سکولوں کے بچوں کی اردو لکھائی اور پڑھائی سرکاری زبان کے منہ پہ زبردست طمانچہ ہے۔ ہمارے ملک کے انگلش میڈیم سکول کے بچوں کو نہ تو ملک کا ترانہ پڑھنا آتا ہے اور نہ ہی اردو کے حروف تہجی سے وہ واقف ہوتے ہیں ہاں انگریزی الفابیٹ کی فونک ٹیون بہت خوبصورتی سے ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے شہر لاہور، اسلام آباد، کراچی، جہاں والدین کی بڑی تعداد خواہش کرتی ہے کہ اولاد کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا جائے، أن شہروں میں شعبہء تعلیم ایک کاروبار بنا ہوا ہے اور اس شعبے نے کس قدر انگریزی زبان کو ہوا دی ہے شائد ہی کسی دوسرے شعبے کے حصے میں انگریزی زبان کی خدمت کا اتنا صلہ ہو۔

مغربی زبان کے غلام یہ تعلیمی ادارے ملازمت بھی فر فر انگریزی بولنے والوں کو ہی دیتے ہیں اور انگریزی روانی سے نہ بولنے والوں کو باہر کے گیٹ کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے انگلش زبان ہمارے ملازم پیشہ طبقے کی ایسی ضرورت ہے کہ اگر آپ کرسی پہ بیٹھ کر نوکری کرنے کے خواہش مند ہیں تو اس زبان پہ عبور حاصل کرنا آپ کی مجبوری ہے ورنہ مزدوری کا شوق پورا کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روکے گا۔ایم اے اردو یا بی اے آنرز اردو میں کرنے والوں کے لیے تعلیم کا پیشہ ہی مناسب ہے اس کے علاؤہ کسی اور شعبے میں ایم۔اے اردو یا آنرز اردو والوں کو بمشکل ہی ملازمت ملتی ہے اور وہ بھی اگر قسمت مہربان ہے اور اردو زبان کے قواعد اور تاریخ سے مکمل آگاہی ہے تو اردو مضمون کا لیکچرار بن کے پیسہ کما سکتے ہیں۔ اردو زبان کی اس ملک میں ٹکے کی وقعت نہ ہونے کے باوجود بھی اس ملک میں کے سرکاری اور پرائیویٹ کالج اور یونیورسٹی میں اردو لیکچرار کی ملازمت بھی بآسانی نہیں ملتی، جو اس جوئے شیر کو سر کرنے نکلتا ہے پہلے اسے ناکوں چنے چبوائے جاتے ہیں۔

اردو زبان کی صدیوں پہ محیط تاریخ، ادبا، شعرا، کی خدمات، کتابوں پہ تبصرے، تنقید کی کتابوں سے اگاہی۔ کہ بعض اردو دان تو لیکچرار شپ کی بجائے سکول میں ہی ملازم ہو جاتے ہیں۔اردو زبان کی بے قدری اور انگریزی کا غلبہ کیا یہ سوچنے پہ مجبور نہیں کرتا کہ اگر یہ زبان ہندی میں مدغم ہو جاتی تو شائد اردو اور ہندی سے مل کے کوئی ایسی نئی زبان تخلیق پا جاتی، جسے انگریزی کے سہارے کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ لیکن سرکاری زبان کا استحصال معاشی بدحالی سے وابستہ ہے جس ملک کی معیشت 99 فیصد سے زیادہ مغرب کی محتاج ہو جو ملک امداد اور خیرات پہ چل رہا ہو اس ملک کی اپنی سرکاری زبان بھی ہو اور وہ زبان باوقار بھی ہو۔۔۔۔ کیسے ممکن ہے؟

Leave a Reply