لال حسین بھٹی

آج لائبریری میں بیٹھا اشفاق احمد کے الفاظ پڑھتے پڑھتے ہاتھ میں قلم اور کچھ کاغذ آہ گئے ،آج میں آپ کو سادہ طرز زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے آپؐ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم سنتے نہیں ، کیا تم سنتے نہیں ، یقینا سادگی ایمان سے ہے، یقینا سادگی ایمان سے ہے‘‘ (ابو داؤد)۔

سادگی کا تعلق ایمان سے ہے۔ ایمان کے کس حصہ سے ہے؟ ایمان بالآخرۃ سے ہے؛ یعنی دنیا کے بارے میں یہ ایمان و یقین کہ وہ عارضی ہے، فانی ہے اور آخرت کے بارے میں یہ ایمان و یقین ہے کہ وہ دائمی ہے، لازوال ہے اور ابدی ہے۔ کیا آپ وقتی، عارضی، جلد اور یکلخت ٹوٹ جانے والی چیز پر اپنا وقت، پیسہ اور قوت صرف کرنے کیلئے تیار ہوں گی؟ ہاں ! جو پائیدار ہے، مستقل کام آنے والی ہے، اس کیلئے وقت، پیسہ، قوت، توانائی خرچ کرنا عقل مندی کی بات ہے۔ ہم اس چکاچوند مادی دور میں ، منہ زور سیلابِ مادیت میں جو غرق ہورہے ہیں تو اس کی وجہ دل کا اس ایمان و یقین سے خالی ہونا ہے کہ دنیا عارضی ہے۔ دنیا کو ہم نے ابدی مان لیا ہے۔ اسی وجہ سے کل سرمایۂ حیات دنیا کیلئے جھونک رہے ہیں اور اگر کبھی دنیا کو حقیقت میں عارضی مانا ہوتا تو پھر سادگی ہمارا شعار ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ وہ جس کا ایمان بالآخرۃ کامل تھا اور جس نے دنیا کی حقیقت دنیا کے بنانے والے سے سمجھ لی تھی کہ وہ متاعِ قلیل ہے تو ان کا معیارِ زندگی اس پہلو سے منفرد تھا۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مملکت اسلامیہ کے سربراہ تھے لیکن اس کے باوجود جو معیارِ زندگی آپؐ نے پیش کیا اس کی شان کتنی تھی، پھر آپؐ کے چاروں بہترین خلفاءؓ نے بھی سادگی کا پورا پورا اہتمام کیا اور جن پاک ہستیوں نے سادگی کا یہ بلند ترین معیار پیش کیا زمانے نے بھی تو صرف انہی کو خلفائے راشدینؓ تسلیم کیا ہے۔ساد زندگی سے مراد جس میں حیثیت سے بڑھ کر نہ اپنے لیے مشکلات پیدا کی جائیں اور نہ ہی دوسروں کے لیے مشکل کا باعث بنا جائے۔ تصنع، تکلف اور خود نمائی سے اجتناب سادگی کا دوسرا نام ہے۔قوموں کی ترقی کا دار و مدار اخراجات پر ہوتا ہے، آمدن اور خرچ میں توازن کے بغیر معاملات کی انجام دہی ناممکن ہے۔ اقوام کی تقدیر میں نمود و نمائش زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔

جب بھی کوئی قوم برتری کے زعم میں حکومت کے خزانوں کو لٹانا شروع کر دیتی ہے تو جلد ہی ملک و ملت پر بوجھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ قرضوں کے بارِ گراں سے بالٓاخر قومی وقار ملیامیٹ ہو جاتا ہے۔ سادگی کی بہ دولت ملک و ملت کو وقار، ترقی و خوش حالی نصیب ہو تی ہے۔سادگی وہ بنیا دی وصف ہے جو ملکی تعمیر و ترقی میں خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ چین کی ترقی میں سادگی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان سے بعد میں آزادی حاصل کرنے والے اس ملک نے محنت، سادگی اور مساوات کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد اپنے آپ کو دورِ جدید کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کیا ہے۔ چینی عوام سادہ، محنتی اور ہر قسم کے غیر ضروری تکلفات سے بے نیاز ہیں۔ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مشروبات کے لیے بے جا اخراجات کی جگہ سادہ اُبلا ہوا پانی صحت کے لیے مفید ہے۔سلام ہمیں سادگی اور سادہ طرزِ زندگی کی نہ صرف ہدایت دیتا ہے بلکہ عملی نمونے کے طور پر اللّٰہ تعالٰی نے اپنے بے شمار نبی اور پیغمبر اس زمین پر اتارے جنہوں نے سادہ زندگی اپنا کر ہمارے لئے بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔’’سادہ طرز زندگی‘‘ اسلام کا امتیاز اور بندۂ مومن کا لازمی جزو ہے۔

ایک موقع پر رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ایمان اور حرص ایک دل میںجمع نہیں ہو سکتے۔‘‘(سُنن نسائی) دنیوی مال و متاع کی خواہش، مال و جائیداد میں روز بروز اضافے کی تمنّا اور سامانِ تعیش کی بکثرت فراہمی انسان کو خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے۔ وہ حرص و ہوس میں اندھا ہوجاتا ہے، یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو انسان کی طبیعت میں کینہ، حسد، بُغض جیسی مکروہ صفات پیدا کرتا ہے، اسی بناء پر باہمی عداوت اور نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہی وہ اسباب ہیں،جو اجتماعی طور پر معاشرے میں بے اطمینانی، بے سکونی اور بڑی حد تک بدامنی کا باعث بنتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں آدمی دوسرے کے مال و جائیداد پر نگاہ رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ سب کچھ یا تو اُسے مل جائے یا جو کچھ دوسرے کے پاس ہے، وہ سب کچھ اُس سے چھن جائے۔ ارشادِ ربّانی ہے: ’’اور اُس کی ہوس نہ کرو، جس میں اللہ نے تم میں باہم ایک دوسرے کو بڑائی اور فضیلت بخشی ہے۔‘‘(سُورۃ النّساء؍32)

معاشرے میں ایک دوسرے پر بڑائی کا اظہار کرنے ،زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے،دولت و ثروت کے انبار لگانے، حرص و ہوس اور بے جا تمنّائوں کی تکمیل کا یہی وہ قابلِ مذمّت عمل ہے، جو معاشرے میں بے اطمینانی،اعلیٰ انسانی اقدار اور مثالی تہذیبی اور اَخلاقی روایات کے زوال کا باعث بنتا اور نفرت و عداوت کو پروان چڑھاتا ہے اور درحقیقت یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور معاشرے میں دیگر جرائم کا باعث بنتا ہے۔موجودہ دورمیں انسانی سماج اور ہمارے معاشرے میں اضطراب ،بے چینی،ڈپریشن اور مہلک بیماریوں کا بڑا سبب زیادہ سے زیادہ مال و دولت کی طلب اور حرص و ہوس کا وہ جذبہ ہے،جو انسان کو کسی پل اطمینان اور سکون سے نہیں رہنے دیتا۔ہر وقت اس کے ذہن میں یہی سودا سمائے رہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل کرلوں۔

آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا : ’’حرص و طمع سے بچو کہ اس نے تم سے پہلوں کو برباد کیا، اسی نے اُنہیں آمادہ کیا کہ اُنہوں نے خون بہایا (قتل و غارت گری کی) اور حلال کو حرام سمجھا۔‘‘( صحیح مسلم)جب کہ ایک اور روایت کے مطابق آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’حرص سے بچو، کیوں کہ اس نے اگلوں کو اس پر آمادہ کیا کہ اُنہوں نے (بے گناہوں کا) خون بہایا۔ اس نے اُنہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ اُنہوں نے حرام کو حلال جانا۔‘‘(حاکم۔ المستدرک)

شیطان جن راستوں سے انسان کو غلط راہ پر ڈالتا اورگم راہی کی طرف لے جاتا ہے، ان میں حرص و ہوس، بے جا تمنّائوں اور خواہشات کی پیروی بھی شامل ہیں۔‘‘قرآنِ کریم میں شیطان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: ’’ اور اس (شیطان) نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ایک حصّہ لے کر رہوں گا اور میں انہیں آرزوئوں اور تمنّائوں میں اُلجھا کر رکھ دوں گا۔‘‘(سُورۃ النساء)

سادہ طرزِ زندگی درحقیقت اسلام کا وہ پیغام ہے، جو انسان کی فلاح اور کامرانی کا ضامن ہے۔ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ انسان کو زندہ رہنے اور اطمینان اور سکون سے زندگی بسر کرنے کے لیے جو کچھ میسّر ہے، اُس پر قناعت کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جب انسان سادہ طرز زندگی کا راستہ چھوڑ دیتا ہے تو وہ حرص و ہوس اور خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔ وہ بے جا تمنّائوں کے نتیجے میں مزید کی جستجو اور زیادہ کی طلب میں اپنے آپ کو ہلکان کر بیٹھتا ہے۔ ’’سُورۂ تکاثر‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ ’’دنیوی مال و اسباب کی کثرت میں فخر نے تمہیں ہلاکت میں ڈال دیا، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔‘‘

ہمیں چاہئیے کہ سادگی کو اپنا کر اپنی زندگی کو آسان بنائیں تاکہ اللّٰہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف خوش رہ سکیں بلکہ پرسکون زندگی کا مزہ بھی لے سکیں ـ سادہ غذا کھائیں تاکہ بے شمار بیماریوں سے بچ سکیں ـ ہم اپنی روزمرہ کی خوراک میں سادگی کو اپنا کر صحت کے اصولوں پر چل سکتے ہیں ـ مرغن اور مرچ مصالحوں والے باہر کے کھانوں سے پرہیز میں ہی صحت مند زندگی کا راز پنہا ہے ۔ سادہ لباس پہنیں اور مہنگے ملبوسات’ہینڈ بیگز’ جوتے’موبائل’ گاڑی’ گھڑی ‘جیولری اور اس جیسی کئی مہنگی چیزوں کے استعمال سے بچیں تاکہ زندگی میں پچھتاوے نہ ہوں بلکہ ساتھ لے کر جانے کے لئے اچھے اعمال ہوں ـ

وہ لباس زیب تن کریں جو ہماری شخصیت میں نکھار لے کر آسکے نہ کہ نمودونمائش کا ذریعہ بنے اور اس دن ہمیں کفِ افسوس میں مبتلا کرے جو حساب کا دن کہلاتا ہے۔
کبھی سوچا ہے کہ ہماری زندگیوں میں اس قدر بے سکونی کیوں ہے ؟ کیونکہ ہم نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا چھوڑ دیا ہے ‘ ہم بس نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں ـ سب نعمتیں ہونے کے باوجود ہم ناشکری کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ ہم دوسروں کو دیکھ کے حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان سے آگے بڑھ جانے اور مقابلہ کرنے میں اپنی ہی زندگی کو جہنم بنا لیتے ہیں ـآنحضرتؐ نے ایک موقع پر فرمایا ” حرص و طمع سے بچو کہ اس نے تم سے پہلوں کو برباد کیا’ اسی نے انھیں آمادہ کیا کہ انھوں نے خون بہایا (قتل و غارت کی) اور حلال کو حرام سمجھا “ـ

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ” سادگی بھی انسان کو اس کے وجود اور خدا سے قریب کر دیتی ہے اور آدمی کئ مشقتوں سے بچ جاتا ہے ـ “جتنا ہم خود کو اپنی سوچ اور آسائیشوں کا غلام بنائیں گے اتنی ہماری زندگی مشکل ہوتی چلی جائے گی لہٰذا سادہ زندگی اپنائیں اور اپنی زندگی کا صحیح معنوں میں لطف اٹھائیں تاکہ خوش و مطمئن رہ سکیں ـ سادگی میں ہی حقیقی خوشی اور خوشحالی کا راز ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اسلامی قوانین کے تحت زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

Leave a Reply