آؤٹ آف سکول بچوں کو سکول لانے کے لئے طویل مدتی منصوبے کی ضرورت ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود

اسلام آباد: آئیے مل کر عزم کرتے ہیں کہ ہم اپنی کوتاہیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے،کوتاہیاں دور کرکے امید کی شمعیں روشن کریں گے،

مختصر وقت میں ایسا کام کریں گے کہ وہ مثال بن جائے، جودیکھ رہے ہیں، محسوس کررہے ہیں وہی باتیں کریں گے، اب تک 3کروڑ بچے آؤٹ آف سکول کیوں ہیں، وقت آگیا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس حوالے سے کیا کام کیا ہے، جب تک پوچھیں گے نہیں مسائل حل نہیں ہوں گے” اِن خیالات کا اظہار نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں عالمی یوم خواندگی کے حوالے سے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مدد علی سندھی کا کہنا تھا کہ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی تعلیمی خدمات سے بخوبی واقف ہوں اور اس یونیورسٹی کی ملک گیر خدمات سے مطمئن ہوں۔

انہوں نے عالمی یوم خواندگی کے حوالے سے سیمینار کے انعقاد پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کو مبارکباد پیش کی۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹرناصر محمود نے کہا کہ پاکستان نے اپنی آزادی کے 76سال گزارے لیکن آج بھی ہمارے ہاں تین کروڑ بچے آؤٹ آف سکول ہیں جن کو ہم نے سکول پہنچانا تھا لیکن نہیں پہنچا پائے۔

انہوں نے کہا کہ اِن بچوں کو سکول لانے کے لئے طویل مدتی منصوبے کی ضرورت ہے، ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دور میں اِن بچوں کو سکول میں داخل کرادیں تاکہ وہ کریڈٹ لے سکیں کہ یہ کام ہم نے کیا ہے، یہ تمغے کی نہیں فرض کی بات ہے جو چار۔پانچ سالوں میں ممکن نہیں ہے،اِن بچوں کو تعلیمی نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لئے 10-12سال کا پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ناصر نے مزید کہا کہ خواندگی کو ناپنے اور خواندگی کی تعریف کو بدلنے کی بھی ضرورت ہے۔خواندگی کی تعریف ایسی ہونی چاہئیے جس سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیجٹل لٹریسی کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے۔

سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے ڈائریکٹر جنرل، مرزا ناصر الدین مشہود احمد نے بھی خطاب کیا۔سیمینار کا انعقادعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (NCHD)اور جائیکا کے تعاون سے کیا تھا۔

Leave a Reply